توحید کلمہ طیبہ

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو، اس سے پہلے کہ ایسا وقت آئے کہ تم اس کلمہ کو (موت یا بیماری کی وجہ سے) نہ کہہ سکو۔

    (ابو یعلی، ترغیب)
  • حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی موت اس حال میں آئے کہ وہ یقین کے ساتھ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔

    (مسلم)
  • حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اس بات کا یقین کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ (کا وجود) حق ہے وہ جنت میں جائے گا۔

    ( ابو یعلیٰ)
  • حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری امت میں سےایک شخص کو منتخب فرماکر ساری مخلوق کے روبرو بلائیں گے اور اس کے سامنے اعمال کے ننانوے دفاتر کھولیں گے۔ ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہوا ہوگا۔ اس کے بعد اس سے سوال کیا جائے گا کہ ان اعمال ناموں میں سے توکسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے ان فرشتوں نے جو اعمال لکھنے پر متعین تھے تجھ پر کچھ ظلم کیا ہے (کہ کوئی گناہ بغیر کئے ہوئے لکھ لیا ہو یا کرنے سے زیادہ لکھ دیا ہو)؟ وہ عرض کرے گا: نہیں (نہ انکار کی گنجائش ہے، نہ فرشتوں نے ظلم کیا) پھر ارشاد ہوگا: تیرے پاس ان بداعمالیوں کا کوئی عذر ہے؟ وہ عرض کرے گا: کوئی عذر بھی نہیں۔ ارشاد ہوگا اچھا تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں۔ پھر کاغذ کا ایک پرزہ نکالا جائے گا جس میں  اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ  لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: جا اس کو تلوا لے۔ وہ عرض کرے گا: اتنے دفتروں کے مقابلہ میں یہ پرزہ کیا کام دے گا؟ ارشاد ہوگا: تجھ پر ظلم نہیں ہوگا۔ پھر ان سب دفتروں کو ایک پلڑے میں دکھ دیا جائے گا اور کاغذ کا وہ پرزہ دوسرے پلڑے میں، تو اس پرزے کے وزن کے مقابلہ میں دفتروں والا پلڑا اڑنے لگے گا۔(سچی بات یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز وزن ہی نہیں رکھتی۔

    (ترمذی)
  • حضرت ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ یہ گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں کو لے کر اللہ تعالیٰ سے (قیامت کے دن) اس حال میں ملے کہ وہ اس پر (دل سے) یقین رکھتا ہو تو یہ کلمہ شہادت ضرور اس کے لئے دوزخ کی آگ سے آڑ بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ان دونوں باتوں (اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت) کا اقرارلے کر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن ملے گا وہ جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ اس کے (اعمال نامہ میں) کتنے ہی گناہ ہوں۔

    (مسند احمد، طبرانی، مجمع الزوائد)
  • حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں (محمد ﷺ) اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں پھر وہ جہنم میں داخل ہو یا دوزخ کی آگ اس کو کھائے۔

    (مسلم)
  • حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اس کی زبان اس کلمہ (طیبہ کو کثرت) سے (کہنے کی وجہ سے) مانوس ہوگئی ہو اور دل کو اس کلمہ (کے کہنے) سے اطمینان ملتا ہو ایسے شخص کو جہنم کی آگ نہیں کھائے گی۔

    (بیہقی)
  • حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی بھی اس حال میں موت آئے کہ وہ پکیّ دل سے گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مغفرت فرمادیں گے۔

    (مسند احمد)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری شفاعت کا سب سے زیادہ نفع اٹھانے والا وہ شخص ہوگا جو اپنے دل کے خلوص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے۔

    (بخاری)
  • حضرت رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے یہاں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جس شخص کی موت اس حال میں آئے کہ وہ سچے دل سے شہادت دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یعنی حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں پھر اپنے اعمال کو درست رکھتا ہو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

    (مسند احمد)
« Previous 12345 Next » 

47