جوانی اور بڑھاپے کے احکامات

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کہیں سایہ نہ ملے گا۔ ایک تو انصاف کرنے والا حاکم ۔دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ سے خدا کی عبادت میں رہا ۔تیسرے وہ جس کا دل مسجد میں لگا رہے۔ چوتھے وہ آدمی جنہوں نے اللہ کے لئے دوستی رکھی زندگی بھر دوست رہے اور دوستی ہی پر مرے ۔پانچویں وہ مرد جس کو ایک مرتبہ والی خوبصورت عورت نے (برائی کے لئے) بلایا، اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۔چھٹے وہ مرد جس نے اللہ کی راہ میں ایسا چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ سے جو دیا بائیں ہاتھ تک کو اس کی خبر نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے اکیلے میں اللہ کو یاد کیا اس کی آنکھیں بہ نکلیں (رو دیا)۔

    (بخاری، جلد اول کتاب الاذان حدیث نمبر :626)
  • حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفید بال نہ اکھاڑا کرو کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ حالت اسلام میں اس کا ایک بال سفید ہوا مگر یہ کہ قیامت کے دن وہ (سفید بال) اس کے لئے نور ہوگا راوی مزید بیان کرتے ہیں کہ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس (سفید بال) کے بدلہ میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اور اسی (بال )کے عوض میں ایک خطا معاف کردیتے ہیں۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الترجل :4202) (ابن حبان)
  • حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمر رسیدہ (سفید بالوں والا) مسلمان، حافظ قرآن جو کہ افراط و تفریط (یعنی غلو کرنے والا ہو نہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے کوتاہی برتنے والا ہو) سے محفوظ ہو اور عادل و منصف بادشاہ کی تکریم کرنا اللہ تعالیٰ کی عزت و تکریم میں سے ہے۔

    (سنن ابی داوُ د، جلد سوئم کتاب الادب :4843)
  • حضرت عمرو بن عبسہ سے روایت ہے رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا بوڑھا ہوگیا روز قیامت اس کے لئے نور ہوگا۔

    (جامع ترمذی، جلدا ول باب فضائل جہاد :1635)
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے تھے ایک بوڑھا آیا وہ آنحضرت ﷺ سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا لوگوں نے اسے رستہ دینے میں دیر لگادی سو آپؐ نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر نہ کرے ۔

    (جامع ترمذی ،جلد اول باب البر والصلۃ 1919-1920)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی جوان نے کسی بوڑھے کی تعظیم اس کے بڑھاپے کے سبب نہیں کی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک ایسا شخص مقرر کرے گا جو بڑھاپے کے وقت اس کی تعظیم کرے گا۔

    (جامع ترمذی، جلد اول باب البروالصلۃ:2022)
  • حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو آدمی اسلام میں بڑھاپے کو پہنچا تو قیامت کے دن بڑھاپا اس کے لئے نور کا باعث ہوگا۔

    (ترمذی، نسائی )
  • حضرت ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول، کون آدمی بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جس کی عمر طویل ہے اور اس کے اعمال اچھے ہیں۔ اس نے پوچھا کون آدمی بدتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی عمر طویل ہے لیکن اس کے اعمال برے ہیں۔

    (ترمذی)
  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ تو بوڑھے ہوچکے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے (سورہ) ھود، واقعہ، المرسلات، النبا اور التکویر نے بوڑھا کردیا ہے۔

    (ترمذی)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہماری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے، نیکی کا حکم نہ کرے اور برائی سے منع نہ کرے۔

    (ترمذی)
 

10

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق